مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جارحیت نے خطے میں ایک نئے علاقائی نظام کی بنیاد رکھ دی ہے، جس میں مغربی ایشیا میں غیر ملکی افواج کی موجودگی یا مداخلت کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی، تاہم ایرانی قوم کی جدوجہد، مزاحمت اور ثابت قدمی نے جارحین کے مقاصد کو ناکام بنا دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی امریکا کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ایرانی قوم کے ناقابل تردید حقوق کے تحفظ کے لیے کوشش جاری رکھے گا، جبکہ خطے میں سکون اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور پرامن تعلقات کی بحالی بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت ایران نے خطے کے ممالک کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی امریکی اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت میں چین کے اصولی مؤقف اور سلامتی کونسل کے غلط استعمال کے حوالے سے بیجنگ کے ذمہ دارانہ طرز عمل کو سراہا۔
آپ کا تبصرہ